اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہےکہ 10 جون کو خانہ پوری بجٹ آیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اصل بجٹ نہیں تھا، مقتدر حلقوں

سے پوچھتا ہوں ہمیں کیوں ہٹایا گیا، ابھی بھی دیر نہیں ہوئی فوری الیکشن کروائے جائیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ

حکومت نے 6 ہفتے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگا،حکومت کو روس سے سستا تیل لینا چاہیے تھا،حکومتی اقدامات کی وجہ سے ڈالرکی قدر بڑھی، یہ پرانا پاکستان پر چلےگئے ہیں، ہماری اپروچ پروگریسو تھی ان کی اپروچ پرانا پاکستان والی ہے۔’ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ یہ چار سو بلین کہاں سے اکٹھاکریں گے، جو ٹیکس دے رہا ہے اس سے یہ اور ٹیکس لیں گے ، مہنگائی 28 فیصد تک پہنچ گئی ہے، یہ پیٹرولیم لیوی 50 روپے پر لے کر جارہے ہیں، پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے ملک میں مہنگائی 35 سے 40 فیصد پر چلی جائیگی اور انڈسٹری بند ہوجائیگی،آئل، ایل این جی اور کوئلے کی درآمد کم نہیں ہوسکتی، پیٹرول کی قیمتیں اوپر جانے سے مہنگائی کا طوفان آجائےگا، اس ماحول میں کون سرمایہ کاری کرے گا۔ سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پتہ چل جائے گا کہ عدم استحکام میں کس کا ہاتھ ہے ، آئل ، ایل این جی اورکوئلےکی درآمد کم نہیں ہوسکتی، حکومت ایک قدم آگے اور 2 قدم پیچھے لے رہی ہے، حکومتی اتحاد کا مقصد معیشت کو

 

ٹھیک کرنا نہیں نیب ترامیم تھا، مقتدر حلقوں سے پوچھتا ہوں ہمیں کیوں ہٹایا گیا، ابھی بھی دیر نہیں ہوئی فوری الیکشن کروائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 جون کو خانہ پوری بجٹ آیا، یہ اصل بجٹ نہیں، اس بجٹ میں گروتھ ریٹ ساڑھے 5 فی صد تھا، پرووینشنل سرپلس 8 سو ارب ہے، حکومت نے ریٹیلرز پر فکسڈ ٹیکس لگایا ہے ، تحریک انصاف حکومت ریٹیلرز سے ڈیجیٹل طریقے سے ٹیکس اکٹھا کر رہی تھی، حکومت ٹیکس پیئر پر مزید ٹیکس لگا رہی ہے لیکن ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کررہی، ٹیکس کلیکشن میں ہم دوبارہ پرانے پاکستان میں جاچکے ہیں۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کہتے تھےکہ عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، الزام لگایا جاتا تھا کہ ہمارے معاہدوں کے باعث قیمتیں بڑھانی پڑیں، دعا گو ہیں کہ آئی ایم ایف سے حکومت کا معاہدہ ہوجائے، مارکیٹ کنفیوژن کا شکار ہے حکومت پر اعتماد نہیں کیا جارہا۔