معیشت کے میدان سے بری خبر ، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 23ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے – Sabee Kazmi

معیشت کے میدان سے بری خبر ، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 23ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے –

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23ماہ کی

کم ترین سطح پر پہنچ گئے اور ذخائر ایک سو نوے ملین ڈالر کم ہوکر10 ارب 30 کروڑ 8لاکھ ڈالر رہ گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کیلئے خطرے کی

گھنٹی بج گئی، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تئیس ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔مرکزی بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کےذخاٸر میں ایک ہفتے کے دوران 19کروڑ ڈالر کمی ہوگٸی، جس کے بعد زرمبادلہ کے مجموعی ذخاٸر کی مالیت 16ارب 37 کروڑ ڈالر رہ گٸی ہے۔

نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق مرکزی بینک کے ذخاٸر کی مالیت 10 ارب 30 کروڑ ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 6 ارب 6کروڑ ڈالر کے ذخاٸر ہیں۔

دوسری جانب اراکین قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے ، ملک میں

پانی کی قلت کو مساوی تقسیم کیا جائے، مستقبل میں پانی کے بحران سے بچنے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے، اقلیتوں کی نشستوں کے انتخاب براہ راست ہونے چاہئیں،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر رہ

گئے ہیں، تین ماہ سے کم ذخائر پر ملک ڈیفالٹ کر سکتا ہے،ڈالر 191 روپے سے تجاوز کرگیا، برآمدات درآمد کا خسارہ 39 ارب ڈالر آگیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ

ہم سب کو مل کر سر جوڑ کر ملک کا سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 13.4 فیصد ہے، بنکوں سے شرح سود 16 فیصد سے اوپر ہے ، اس پر

ایک بھرپور مباحثہ کرایا جائے۔ ملک میں براہ راست ٹیکس لگایا جائے،امیر امیر تر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے حلقے کی روڈز خراب ہیں، ان کو بہتر بنایا جائے۔

پیپلز پارٹی کے رکن یوسف تالپور نے کہا کہ ہر شخص کو پتہ ہے کہ ملک میں پانی کی قلت ہے تاہم اس کمی کو مساوی تقسیم کیا جائے،1991 کے معاہدے کے تحت پانی دیا جائے۔ رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وینکوانی نے کہا کہ عمران خان نے پٹرول کی قیمتیں برقرار رکھ کر مقبول فیصلہ کیا تاہم اس سے ریاست

اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ پاکستان میں 1973 کا آئین نافذ ہے اس کے مطابق ہر ادارے کو چلنا ہے، آئینی ادارے اپنی ذم داریاں پوری کر رہے ہیں، کوئی جماعت اس کے خلاف بات نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی نشستوں کے انتخاب براہ راست ہونے چاہئیں،رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم بیرون ملک کابینہ اجلاس نہیں کر رہے یہ مسلم لیگ(ن) کا مشاورتی اجلاس تھا اور گزشتہ حکومت نے جس طرح اس ملک کی معیشت کو تباہ کیا اس کو درست کرنے کے لئے مشاورت کی ہے۔ اگر ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت ہو رہی ہےتو یہ ان کا حق ہے،ملک میں اس وقت مخلوط لیکن مستحکم حکومت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں صدر پاکستان سمیت آئین شکنی کے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں وہ افسوسناک ہیں۔ گورنر کے خلاف وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل قانونی پابندی ہے صدر مملکت اس سے انحراف کرکے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے صدر ہیں، پارلیمانی جمہوریت اور آئین کے خلاف سازشیں قابل مذمت ہیں۔

جے یو آئی ف کے رکن قومی اسمبلی محمود شاہ نے کہا کہ بلوچستان کو پانی دیا جائے، ان کی جانب سے کھاد کی قلت کا معاملہ اٹھایا گیا جسے متعلقہ کمیٹی

کو بھجوا دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن )کے جنید انوار چوہدری نے کہا کہ 1991 کے ووٹر ریکارڈ پر عمل نہیں ہوا۔ ہمیں آنے والے وقتوں کی مشکلات کا بھی ادراک

کرنا چاہیے۔ کیا اتنا پانی آج دستیاب ہے؟ ہمیں آنے والے وقتوں کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے، کاشتکاروں کو سبسڈی دی جائے، صنعتکاروں پر ٹیکس لگایا جائے۔ ڈاکٹر درشن نے کہا کہ سندھ میں اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کا نوٹس لیا جائے۔ زبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا جاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.