لاہور: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر نواز شریف اور شہباز شیرف

 

کے بچوں کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں جس کے بعد کچھ حلقے یہ خیال کر رہے ہیں کہ کیا گجرات کے چوہدریوں کی طرح شریف خاندان بھی ٹوٹ جائے گا ؟ اس حوالے سے مختلف تجزیہ کاروں نے بھی اپنی رائے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دو خاندانوں کی سیاست ہمیشہ سے ملک بھر میں توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یہاں کی سیاست پر نگاہ رکھنے والے کسی بھی فرد کو ان خاندانوں کے نام بتانے کی ضرورت نہیں۔ ان افواہوں پر سب سے زیادہ بات کرتے ہوئے شیخ رشید نظر آتے تھے اور ٹی وی چینلز پر ان کا شریف خاندان اور پاکستان مسلم لیگ

 

(ن) کے بارے میں کہا ہوا ایک جملہ اکثر دیکھنے کو ملتا تھا۔ شیخ رشید کہا کرتے تھے کہ ’ن لیگ میں سے ش لیگ نکلے گی‘۔ یعنی نواز شریف سے علیحدگی اختیار کر کے شہباز شریف اپنی الگ جماعت بنا لیں گے۔ پنجاب کے مرکزی شہر لاہور میں تین دہائیوں سے زائد صحافت کرنے والے تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ انہیں دونوں بھائیوں کے درمیان علیحدگی ہوتی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’جب سے بڑے میاں (میاں محمد شریف) فوت ہوئے

 

ہیں شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کو اپنے باپ کا درجہ دیتے ہیں۔‘شریف خاندان کے بارے میں سلمان غنی مزید کہتے ہیں کہ ’اس خاندان کی کچھ روایات ہیں اور رکھ رکھاؤ ہے۔ میاں محمد شریف بھی سیاست میں ترجیح نواز شریف کو ہی دیتے تھے۔‘سلمان غنی سے ملتی جلتی بات سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے بھی اپنی کتاب ’ان دا

 

لائن آف فائر‘ میں لکھی تھی۔ لیکن ان کے الفاظ تعریفی بلکل نہیں تھے۔ وہ شریف خاندان کے گھر جانے کا قصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’کھانے کے وقت ابا جی یعنی میاں محمد شریف، ان کے دونوں بیٹے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف بھی موجود تھے۔‘