ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح تک گر گیا – Sabee Kazmi

ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح تک گر گیا

کراچی (آن لائن)انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپیہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح تک

گر گیا۔ایک ہفتے کے دوران انٹر بینک میں ڈالر5روپے جبکہ مقامی مارکیٹ میں ڈالر6روپے مہنگا ہو گیا موجودہ اضافے کے بعد ڈالر نے بلندی کے تمام سابقہ ریکارڈ تورڈ دیئے جبکہ یور و اوربرطانوی پونڈ کو بھی پر لگ گئے۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابقایک ہفتے کے دورا ن انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں 5.20روپے کا اضافہ ریکارڈ

کیا گیا جس سے ڈالر کی قیمت خرید 187.60روپے سے بڑھ کر192.50روپے اور قیمت فروخت187.80روپے سے بڑھ کر193روپے ہو گئی اسی طر ح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں 6روپے کے نمایاں اضافے سے ڈالر کی قیمت خرید 187.50روپے سے بڑھ کر193.50روپے اور قیمت فروخت188.50روپے سے بڑھ کر194.50روپے پر جا پہنچی۔

فاریکس رپورٹ کے مطابق زیر تبصرہ مدت میں یورو کی قدر میں 4روپے کا اضافہ ہوا جس سے یورو کی قیمت خرید 196روپے سے بڑھ کر199روپے اور قیمت فروخت198روپے سے بڑھ کر202روپے ہو گئی اسی طرح 3روپے کے اضافے سے برطانوی پونڈ کی قیمت خرید 231روپے سے بڑھ کر234روپے اور قیمت فروخت235روپے سے بڑھ کر238روپے ہو گئی۔

فاریکس رپورٹ کے مطابق ہفتہ کے دن اوپن مارکیٹ میں ڈالر،یورو اور برطانوی پونڈ کی قدر میں استحکام رہا۔ دوسری جانب پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے کاروباری اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کی لپیٹ میں رہی،کے ایس ای100انڈیکس 1300پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 44ہزار پوائنٹس کی

نفسیاتی حدگر گیا اور 43400پوائنٹس کی پست سطح پر بند ہوا۔کاروباری سرگرمیاں ماند رہنے سے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 2کھرب43ارب روپے سے زائد ڈوب گئےجس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 74کھرب روپے سے گھٹ کر 71کھرب روپے رہ گیا جبکہ57.19فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے2دن بدترین مندی سے دوچار رہی اور اس دوران انڈیکس 2088.88پوائنٹس کم ہو گیا جبکہ3دن کی تیزی سے انڈیکس 734.53پوائنٹس ہی ریکور ہو سکا تاہم مجموعی طور پر مارکیٹ تنزلی کا شکار رہی۔

اسٹاک ماہرین کے مطابق ملک میں سیاسی افرا تفری کے باعث معاشی اشاریوں میں تنزلی کے خدشات پر سرمائے کے انخلاء، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرا م میں تاخیر مارکیٹ کو بحرانی کیفیت سے دوچار کیا تاہم چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس چھوٹ میں مزید کمی کرنے کے اعلان سے سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملااور حصص کی خریداری سے مارکیٹ سے منفی اثرات زائل ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.