’’ کامران خان کو کون بتاتا ہے‘‘ وزیر اعظم کے بیان کے بعد کامران خان خود میدان میں آگئے، بڑی بات کہہ دی – The Pakistan Time

’’ کامران خان کو کون بتاتا ہے‘‘ وزیر اعظم کے بیان کے بعد کامران خان خود میدان میں آگئے، بڑی بات کہہ دی b

’’ کامران خان کو کون بتاتا ہے‘‘ وزیر اعظم کے بیان کے بعد کامران خان خود میدان میں آگئے، بڑی بات کہہ دی

نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ کار کامران خان کہا ہے کہ وزیراعظم بعض معاملات پر سوچ بچار کر رہے ہیں لیکن کچھ معاملات میں ان کی انا آڑے

آرہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام ’’نقطہ ‘‘میں سینئر اینکر پرسن

کامران خان نے وزیراعظم عمران خان کا سوال ’’ کامران

خان کو ایسی باتیں کون بتاتا ہے ؟ داہریا اس کے جواب میں سینئر اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ ملک کی موجود ہ صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جب دو

فریق کے بیچ تنائو کی صورت بنتی ہے تو ایسی صورتحال سے نجات کیلئے فوج کے سربراہ ہی مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیںیہ ایک معمول کا عمل ہے۔ سینئر اینکر پرس کا کہنا تھا کہ اس وقت ملکی موجودہ صورتحال بہت سنگین ہو چکی ہے اور اس کو حل کرنا بہت ضروری ہو چکا ورنہ

اس کے بہت زیادہ نقصانات ہو سکتے ہیں ۔ سینئر تجزیہ کار کامران خان کا کہنا ہے کہ ملکی صورتحال میں ایک ادارہ تماشائی کی حیثیت سے یہ سب نہیں دیکھ

سکتا اور یہ بہت ہی خوش آئندہ بات ہے کہ پاکستان میں کسی قسم کا کوئی بھی مسئلہ ہو اس سے نمٹنے کیلئے ایک ادارہ موجود ہے اور ایسا کیسے ممکن ہے

کہ ملک ڈوب رہا اور اس سب کنارے پر بیٹھ کا اس نظار کر رہے ہوں ۔ کامران خان کا مزید کہنا تھا کہ وزیاعظم عمران خان کو نکالنے کے پیچھے سب سے قلیدی وجہ یہ ہی ہے کہ وہ ایک مخصوص شخصیت کو جنرل باجوہ کا

جانشین بنانا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ وززیراعظم عمران خان نے آج بدھ کو صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ملک میں مضبوط فوج کی ضرورت

ہے، اگر ملک میں فوج نہ ہوتی تو ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتاہر کسی کو چاہیے کہ وہ اپنی فوج کا تحفظ کرے، فوج پر مسلسل حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں

نے کہا کہ (ن) لیگ کی سیاست چوری بچانے کی سیاست ہے، کسی بھی صورت انہیں این آر او نہیں دیا جائے گا، مارشل لاء سے بڑا جرم این آر او دینا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں کسی صورت استعفیٰ نہیں

دوں گا، میرا استعفیٰ دینا اپوزیشن کی خام خیالی ہے۔ وزیر اعظم نے کامران خان کے ٹویٹ سے متعلق سوال پر کوئی جواب نہ دیا اور مسکراتے رہے اور

قہقہے لگا کر ہنستے رہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی تبدیلی پر بھی قہقہے لگائے اور عمران خان نے کہا کہ کامران خان سے پوچھنا چاہیے کہ انہیں یہ باتیں کون بتاتا ہے کہ میں یہ کام کروں وہ کام کروں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.