‘ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ثبوت کے طور پر موجود ہے، وزیراعظم عمران خان کا تہلکہ خیز انکشاف – News Online

‘ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ثبوت کے طور پر موجود ہے، وزیراعظم عمران خان کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے جلسے میں خط لہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے باہر سے کن، کن جہگوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا

رہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس یہ خط

ثبوت کے طور پر موجود ہے، فارن پالیسی کو مروڑنے کی باہر سے کوشش کی جا رہی ہے، شاہ محمود قریشی کو پچھلے مہینوں یہ پتا چلا، جمہوری لیڈر

کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا عوام میں جاتا ہے، اس لیے آج عوام کو بتارہا ہوں، حکومت جاتی ہے جائے، جان جاتی ہے جائے، کبھی ان کو معاف نہیں کروں گا۔ اسلام آباد میں امر بالمعروف جلسے سے خطاب کرتے ہوئے  عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑی کم تقریر لکھتا ہوں لیکن یہ بات ایسی ہے

جذبات میں آکر کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا، ہمارے ملک کو پرانے لیڈروں کی کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک کے اندر موجود

لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں، ذوالفقارعلی بھٹو نے جب ملک کو آزاد فارن پالیسی دینے کی کوشش کی تو فضل الرحمان اور

بھگوڑوں نوازشریف نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیئے گئے تھے، ان حالات کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی، بھٹو

سے اختلاف ہے لیکن اس کی ہمیشہ سے خود داری پسند تھی، آج اسی بھٹو کے داماد آصف زرداری سب سے بڑی بیماری اور اس کا نواسا کی کانپیں ٹانگ رہی ہے، دونوں کرسی کے لالچ میں

نانا کی قربانی کو بھلا کر بھٹو کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھ کر وکالت کر رہے ہیں، انہیں شرم نہیں آتی جن لوگوں نے پھانسی دلوائی کرسی کی خاطر ان کے ساتھ

بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ثبوت کے طور پر موجود ہے، فارن پالیسی کو مروڑنے کی باہر سے

کوشش کی جا رہی ہے، شاہ محمود قریشی کو پچھلے مہینوں یہ پتہ چلا، آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہو گئے ہیں، قاتل اور مقتول کو اکٹھا کرنے والوں کا بھی ہمیں

پتا ہے، لیکن آج بھٹو والا وقت نہیں، وقت تبدیل ہوچکا ہے، دریا کا پانی نکل چکا، اب نیا وقت آچکا ہے، یہ ہے سوشل میڈیا کا زمانہ ہے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، ہم سب سے دوستی کریں گے، غلامی نہیں کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.