کئی سال قبل ایک چور نے میانوالی ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی میں چوری کی واردات کیسے ڈالی تھی ؟

کئی سال قبل ایک چور نے میانوالی ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی میں چوری کی واردات کیسے ڈالی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ناصر بشیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لٹیرا ہمیشہ ہتھیار کے زور پر اپنی دھونس جماتا ہے، سینہ زوری کرتا ہے، آنکھیں دکھاتا ہے۔ کوئی مزاحمت کرے تو اُس کو زندگی سے محروم بھی کر دیتا ہے۔ لٹیرے کو اپنی رسوائی کا کوئی ڈر نہیں ہوتا اس

لیے دن دہاڑے بھی واردات کر گزرتا ہے۔ چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا۔ یہ ظالم، واردات کے دوران میں کبھی کبھار کوئی ایسی معیوب حرکت بھی کر گزرتا ہے کہ لٹنے والا شخص دنیا سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔ کسی کی برسوں کی کمائی ہوئی دولت بیس پچیس روپے خرچہ کیے بغیر ہی چھین کر بھاگ جاتا ہے۔ پولیس سے ڈرتا ہے نہ خدا سے، حتیٰ کہ جگہ جگہ لگے ہوئے کیمروں سے بھی نہیں ڈرتا۔ لٹیرے کے مقابلے میں چور نہایت شریف آدمی ہوتا ہے۔ کسی پر اپنی دھونس جماتا ہے نہ سینہ زوری کرتا ہے، یہ بدمعاشی بھی نہیں کرتا۔ کسی کی جان لینے کی تو یہ کبھی کوشش نہیں کرتا۔ بےچارہ رسوائی سے بہت ڈرتا ہے اس لئے چوری کرنے کے لئے ہمیشہ رات کے اندھیرے میں دبے پائوں گھر میں داخل ہوتا ہے۔ دروازہ بند ہو تو دیوار پھلانگ کر گھر میں گھستا ہے۔ اسے گھر والوں کے آرام کا اتنا خیال ہوتا ہے کہ دیوار سے کودتے ہوئے ذرا سا بھی شور پیدا نہیں ہونے دیتا چونکہ اسے اپنی عزت کا بہت خیال ہوتا ہے اس لئے ہمیشہ منہ پر نقاب ڈال کر آتا ہے۔ اتنا غریب ہوتا ہے کہ بےچارہ ایک معمولی ہتھیار بھی نہیں خرید سکتا۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے چور ٹارچ لے کر آیا کرتا تھا۔ اب ٹارچ کی جگہ موبائل لے کر آتا ہے۔ جو لوگ یہ نہیں جانتے کہ ٹارچ کیا ہوتی ہے؟ وہ سڑکوں پر رات کے وقت

ناکا لگانے والے پولیس اہلکاروں کو دیکھ لیں۔ گاڑی کی جلتی ہوئی
ہیڈ لائٹس کے سامنے ٹارچ جلا کر یہ پولیس اہلکار شاید سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔چور بہت قناعت پسند ہوتا ہے۔ زیادہ مال کی طمع نہیں رکھتا۔ جتنا مال اس کی گٹھڑی میں سما جائے اسی کو کافی سمجھتا ہے۔ اس کی قناعت پسندی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نہایت درویش منش ہوتا ہے۔ اس کی درویشی کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ شب بیدار ہوتا ہے۔ چوری کے لئے سہی، راتوں کو جاگتا ہے۔ جب ساری دنیا خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے، چور کچھوے کی چال چلتے ہوئے، کسی غفلت کے مرتکب کے گھر میں داخل ہو جاتا ہے اور اسے کنگال کر کے احساس دلاتا ہے کہ نیند کوئی اچھی چیز نہیں۔ اس کی قناعت پسندی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ چوری کرتے ہوئے اگراسے بھوک ستائے تو سوئے ہوئے اہل خانہ کو نہیں جگاتا۔ بے چارہ خود ہی کچن تلاش کرتا ہے۔ کچن میں کہیں پڑا چکن ڈھونڈتا ہے۔ پکا ہوا ہو تو کھا لیتا ہے۔ کچا ہو تو مالِ غنیمت جان کر اپنی گٹھڑی میں چھپا لیتا ہے۔ چکن میسر نہ ہو تو

بچے کھچے پھلوں ہی پر گزارا کر لیتا ہے۔ ایک بار میرے گھر میں ایک چور گھس آیا تھا۔ نہایت شرمیلا چور تھا اس لئے رات کو اس نے مجھے یا کسی اور کو اپنی آمد کی خبر ہی نہ ہونے دی۔ جب صبح سویرے میں نے اپنے دو موبائل، کچھ رقم اور پاس ہی پڑے ہوئے کیلوں کا لفافہ غائب پایا تو پتا چلا کہ
رات کسی شریف آدمی نے گھر میں قدم رنجہ فرمایا تھا۔ اتنا توکل پسند ہوتا ہے کہ صرف اپنی ضرورت کی چیز اٹھاتا ہے۔ غیر ضروری چیزوں کی طرف وہ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ البتہ اہلِ خانہ میں سے کسی کی آنکھ کھل جائے تو اندھیرے کے ساتھ اندھیرا ہو جاتا ہے۔ یوں غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔پہلے زمانے میں چور پیدل آیا کرتا تھا۔ اس لئے جتنا سامان اٹھانے کی سکت رکھتا تھا، اتنا ہی چوری کیا کرتا تھا۔ آج کے چور ہیں تو شریف لیکن

قناعت پسند نہیں رہے۔ اپنے ساتھ رکشا یا کیری ڈبہ لاتے ہیں۔ ان میں لالچ پیدا ہو گیا ہے۔ وہ ایک ہی رات میں زیادہ سے زیادہ سامان چرا کر باقی دن آرام کرتے ہیں۔رکشا یا کیری ڈبہ شاید اس لئے بھی لاتے ہوں گےکہ اب غذائوں میں پہلے جیسی طاقت نہیں رہی۔ مال چوری ہی کا سہی، کندھے پر رکھ کر کہیں لے جانا کوئی آسان کام ہے؟ پہلے زمانے کے چور اَن پڑھ ہوا کرتے تھے اس لئے وہ صرف وہی چیزیں چراتے تھے جو ان کی آنکھوں کو دکھائی دے جاتی تھیں۔ آج کے چور کو ڈیجیٹل چور بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ اب یہ چوریاں آن لائن بھی کرنے لگے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں کسی کے گھر دیوار پھلانگ کر بھی نہیں جاتے اور ان کے بینک اکائونٹس خالی کر دیتے ہیں۔ دیکھا بچو! تعلیم کا کتنا فائدہ ہے۔ بچپن میں سنا تھا کہ میانوالی کے ریلوے اسٹیشن پر ایک مال گاڑی کھڑی تھی
جس کے ساتھ آئل ٹینکر بھی لگے ہوئے تھے۔ رات کے وقت وہاں ایک شخص آیا اور ایک کنستر لے کر ٹینکر کے اوپر چڑھ گیا۔ ڈھکن تو اس نے کھول لیا لیکن تیل کی سطح اسے دکھائی نہ دی۔ اس نے جیب سے ماچس نکالی۔ دیا سلائی جلائی اور ڈھکن کے قریب کر دی تاکہ دیکھ سکے کہ تیل کہاں تک ہے۔

جونہی اس نے دیا سلائی جلائی، آئل ٹینکر کی جہالت کی نذر ہو گیا۔ میں نے سنا ہے کہ اب میانوالی کے چور پڑھ لکھ گئے ہیں۔ کنستر بھر تیل چرانے کی کوشش نہیں کرتے۔گزری ہوئی دو تین صدیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ انگریز برصغیر میں چوروں کی طرح، دبے پائوں رات کے اندھیرے میں آئے تھے۔ چونکہ بے چارے بہت غریب تھے اس لئے اپنے مطلب کی چیزیں چپکے چپکے چراتے اور اپنے وطن بھجواتے رہے۔ انگریزوں کی شرافت کا میں آج بھی قائل ہوں۔ انہوں نے ہم غفلت گروں کے آرام میں خلل نہیں آنے دیا۔ ہم سوئے رہے اور وہ اپنا کام دکھا گئے۔ ان کی شرافت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ جاتے جاتے اپنی بہت سی نشانیاں چھوڑ گئے جو آج بھی ہمارے کام آ رہی ہیں۔ آج طاقت کا زمانہ ہے اس لئے امریکا بہادر ہر روز ایک لٹیرے کی طرح دنیا پر دھونس جماتا ہے۔ سینہ زوری کرتا ہے۔ آنکھیں دکھاتا ہے۔ کوئی مزاحمت کرے تو اس کوزندگی سے محروم بھی کر دیتا ہے ۔ میں تو یہی کہوں گا کہ چوروں ہی کا زمانہ اچھا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *