”نبی اکرم ﷺ کا واحد صحابی جو اب بھی زندہ ہے۔ وہ کوئی انسان نہیں ایک درخت ہے کیسے صحابی بنا اور یہ دریافت کیسے ہوئی۔“ – AF Newz

”نبی اکرم ﷺ کا واحد صحابی جو اب بھی زندہ ہے… وہ کوئی انسان نہیں ایک درخت ہے کیسے صحابی بنا اور یہ دریافت کیسے ہوئی۔“

ایک عرصہ پہلے تک وہ صحابی درخت کہ جس کی نسبت نبی کریم ﷺ سے ہے لوگوں کے علم میں تو موجود تھا لیکن اس درخت کی مخصوص جگہ کسی کو کچھ خاص معلو مات نہ تھیں یہ درخت ابھی مشرق صفاء کے مقام پر وادی سیران میں دریافت ہو چکا ہے….

اس کو دور سے ہی پہچانا جا سکتا ہے کیونکہ کئی سو مربع کلو میٹر کے خشک اور سحرائی علاقے میں یہ واحد جاندار چیز آپ کو دیکھنے کو ملے گیبقول اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ کے میں ہیلی کاپٹر میں سحرا کے اوپر سے گزر رہا تھا کہ میں نے نیچے ایک درخت کو دیکھا اس سحرا میں نہ کوئی پودا تھا …

اور نہ ہی کوئی کھیت تھا بس یہی درخت تھا۔ پانی اس درخت کا اسحرا میں ترو تازگی کے ساتھ موجود ہو نا میرے لیے ایک واضح دلیل تھی کہ ایک درخت اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے اس کو صحابی درخت کیوں کہا جا تا ہے؟ اس کی نبی کریم ﷺ سے کیا نسبت ہے

اور اس کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارے ساتھ رہیے گا ۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ دوستوں سے گزارش کر تا ہوں کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے اس درخت کو صحابی درخت اس وجہ سے کہا جا تا ہے کہ ,

چودہ سو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ درخت وہ واحد جاندار چیز ہے جسے نبی کریم ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہے یہ بات سائنسی اعتبار سے بھی ایک حقیقت ہےکہ پودے اور درخت جاندار ہو تے ہیں اس لیے اس درخت کو صحابی درخت کہا جا تا ہے اس کی نسبت کا واقعہ کچھ یوں شروع ہو تا ہے کہ نبی کریم ﷺ چھوٹی عمر میں تھے …..

۔ کچھ روایات میں آپ ﷺ کی عمر مبارک بارہ سال لکھی گئی ہے کچھ دیگر روایات میں آپ ﷺ کی عمرِ مبارک کو نو سال بتا یا گیا ہے۔ آپ ﷺ کے چچا جناب ابو طالب نے تجارتی مقاصد کی خاطر شام کی طرف سفر کر نے کا ارادہ کیا اہلِ قریش ان زمانوں میں سال میں دو تجارتی سفر کیا کر تے تھے ایک سفر گرمیوں میں شام کی طرف کیا جا تا ہے

جب کہ دوسرا یمن کی جانب کیا جا تا ۔ قرآنِ مجید میں اللہ نے قریش کے جن سفروں کے بارے میں اشارہ فر ما یا ہے وہ یہی ہیں آپ خود بھی تجارت سے وابستہ تھے چنانچہ انہوں نے قریش کے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر ایک تجارتی سفر کا آغاز کیا اور منزل تھی شام کی سر زمین۔ نبی کریم ﷺ اس وقت اپنے چچا جناب ابو طالب کے زیرِ کفالت تھے تو اس کے بارے میں اور بھی کئی خوبصورت باتیں ہیں۔ جو میں نے آپ کو بتا دی ہیں۔

READ MORE ARTICLES BELOW,….

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں