ماہرین آثار قدیمہ نے حضرت ”لوط”’ علیہ السلام کا گھر دریافت کر لیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ماہرین آثار قدیمہ نے حضرت لوط علیہ السلام کا گھر دریافت کرنے کا دعوی کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ نے اردون کے جنو ب میں واقعہ جنوبی اغوار میں دریافت کیا ہے ۔

العربیہ اردو کی رپورٹ کے مطابق اردن میں مقامی ماہرین نےمتعلقہ حکومتی اداروں کے تعاون سے ملک کے جنوب میں واقع علاقے ‘جنوبی اغوار میں حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کے انکشاف کا اعلان کیا ہے۔

جمعے کے روز—- اردن میں ٹورسٹ گائیڈز ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد حماد نے باور کرایا ہے کہ حالیہ انکشاف اردن کی ریاست کی دوسری صدی کی اہم ترین دریافت میں شمار ہو رہی ہے……… ۔ماہرین نے اس انکشاف کو ثابت کرنے کے لیے فلکیاتی ، ارضیاتی اور جغرافیائی دلائل کا سہارا لیا۔

علاوہ ازیں آثاریاتی کھدائی اور علاقے میں موجود راستوں کو بھی خاص طور پر زیر غور رکھا گیا۔اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پٹرا کے مطابق حاصل ہونے والے شواہد میں بائبل میں مذکور تحریری تختیاں، ایبلا اور اکادیہ کی تختیاں، رومی راستے اور قریش کا ‘ایلاف کا راستہ وغیرہ شامل ہیں۔

دوسری جانب سنہ 2007 میں اردن کے قدیم شہر پیٹرا کو ’دنیا کے سات نئے عجائب‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ گذشتہ دو سالوں سے اردن آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹور آپریٹرز اسے مشرق وسطیٰ میں سیاحوں کے لیے محفوظ مقامات میں شمار کرتے ہیں…….. ۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے پیٹرا ڈیولپمنٹ اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے چیف کمشنر، سلیمان فراجات کا کہنا تھا ’آج ہم پیٹرا کے روز سٹی آنے والے سیاحوں کی تعداد 10 لاکھ ہونے پر بہت خوش ہیں۔

واقعی، یہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔‘چٹان میں قائم قدیم عمارت جسے ’الخزنہ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہےسلیمان فراجات کا یہ بھی کہنا تھا ’ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک سال میں 10 لاکھ سیاحوں نے پیٹرا کا دورہ کیا ہے۔ یقیناً اس سے ہم پر سیاحوں کے لیے سہولیات اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ بڑھتا ہے۔

‘پیٹرا آنے والے اکثر سیاح یہاں تک آنے کے لیے اونٹ پر سفر کرتے ہیں………. ۔ اسی لیے آثار قدیمہ والے اس شہر میں اونٹ مالکان سیاحوں کو کرائے پر دینے والے اونٹ ساتھ لیے نظر آتے ہیں۔

یہاں تحائف کی خریداری کے لیے مختلف سٹال بھی لگائے گئے ہیں۔ سیاح ’الخزنہ‘ (خزانہ) کہلائی جانے والی عمارت کے سامنے تصاویر بنواتے نظر آتے ہیں۔

READ MORE STORIES AND NEWS ARTICLES BELOW

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں